5 فروری 2011 - 20:30

ایک امریکی پروفیسر نے تیونس اور مصر میں عوامی تحریکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جمہوریہ آذربائی جان میں مشابہ انقلاب رونما ہونے کے سلسلے میں خبردار کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی آسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر "مايکل تکاچک Dr. Michael Tkacik" نے آذری خبرایجنسی "توران" سے بات چیت کرتے ہوئے مالی بدعنوانی، طبقاتی فاصلوں، مخالفین پر شدید دباؤ اور معاشی مشکلات کو عوامی تحریک کے محرکات قرار دیتے ہوئے کہا: گو کہ آذربائی جان تیل کی دولت سے مالامال ہے اور وہ تیل کے عوض اچھی خاصی آمدنی کما رہا ہے لیکن اس آمدنی کا بہت تھوڑا سا حصہ معاشرے کے کمزور طبقوں تک پہنچ رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ آذری حکمران فوج اور پولیس کا بے تحاشا استعمال کررہے ہیں جبکہ پولیس اور فوج کا سہارا کسی بھی آمرانہ طرز حکومت کی طویل المدت بقاء کی ضمانت فراہم نہیں کرسکتا۔ قابل ذکر ہے کہ تیونس اور مصر میں عوامی تحریکیں آغاز ہونے کے بعد عوامی محاذ سمیت دیگر آذری جماعتوں اور سیاسی تنظیموں نے عوام کو مصر اور تیونس کی طرح، آذربائی جان کی حکومت کے خلاف تحریک شروع کرنے کی دعوت دی ہے۔ دریں اثناء آذری حکومت نے اپنی جانب سے لوگوں کی دیانت، حجاب، اسلام کے خلاف وسیع اقدامات اور صہیونیوں کی اعلانیہ حمایت اور وہابیت کے فروغ میں مدد دینے جیسے اقدامات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اذربائی جان کے حالات کسی صورت میں بھی تیونس اور مصر کے حالات سے مشابہت نہیں رکھتے۔  واضح رہے کہ تیونس میں عوامی انقلاب کے بعد جمہوریہ آذربائی جان کے نائب وزیر اعظم "علی حسن اف" نے تیونسی انقلاب کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "میں آذری عوام کو تحریک شروع کرنے کے لئے خودسوزی پر آمادہ سبزی فروش ڈھونڈنے سے خبردار کرتا ہوں"۔قابل ذکر ہے کہ آذربائی جانی آمریت کے مصری آمر حسنی مبارک کے ساتھ نہایت دوستانہ تعلقات ہیں اور اس نے "خوردالان" نامی شہر میں حسنی مبارک کا ایک مجسمہ نصب کیا ہے جبکہ آذری اپوزیشن نے اس مجسمے کے انہدام کا مطالبہ کیا ہے لیکن حکومت آذربائی جان نے نہ صرف اس عوامی مطالبے کو مسترد کیا ہے بلکہ مجسمے کے اردگرد آہنی حصار بنارکھا ہے اور کئی پولیس والے اس کی حفاظت پر مأمور ہوگئے ہیں جو شب و روز مصر کے مسترد شدہ آمر کے مجسمے کی حفاظت کررہے ہیں۔

..........

/110